ابنا: موصولہ اطلاعات کے مطابق شمال مغربي شام کے ادلب شہر ميں دو بم دھماکے ہوئے جن ميں بيس افراد مارے گئے-
دوسري جانب سيکورٹي اہلکاروں نے حماہ شہر کے اطراف ميں مسلح افراد کا تعاقب کرنے کے بعد ہتھياروں کے ايک بڑے ذخيرے پر قبضہ کر ليا- اس کارروائي ميں شامي سيکورٹي فورس نے کئي دہشتگردوں کو گرفتار بھي کر ليا-
دريں اثنا شام کے علماء کي يونين نے اسلامي حکومتوں اور اقوام کے نام اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ اب يہ بات سب کے ليے عياں ہو چکي ہے کہ اب تک جن ملکوں کو ہم اسلامي ممالک سمجھ رہے تھے انہوں نے اسلامي امت کے دشمنوں کو استعمال کرکے شام ميں قتل عام اور تخريب کاري کا بازار گرم کر رکھا ہے- اس بيان ميں کہا گيا ہے کہ شام ہر اس سازش کا بھرپور مقابلہ کرے گا جس کے تحت ملک ميں مذہبي جنگ شروع کرنے کي کوشش کي جائے گي کيونکہ صہیوني دشمن کي خواہش يہي ہے-
ادھر شام کے حکام نے بھي اعلان کيا ہےکہ امريکا، سعودي عرب اور قطر شام کے اندر حملے کروانے کے ليے القاعدہ اور ديگر دہشتگرد تنظيموں کي مدد کر رہے ہيں- پريس ٹي وي کي رپورٹ کے مطابق شام کے حکام نے کہا ہے کہ شام ميں ہونے والے دہشتگردانہ حملوں کے طريقہ کار اور اہداف سے پتہ چلتا ہے کہ ان حملوں کے پيچھے القاعدہ کا ہاتھ ہے- شام کے حکام کا خيال ہے کہ ملک کے اندر موجود دہشتگرد گروہوں کي مالي امداد سعودي عرب اور قطر کر رہے ہيں جبکہ مغربي ممالک خاص طور پر امريکا کي جانب سے ان کي حمايت ہو رہي ہے- دمشق کے حکام کا کہنا ہے کہ يہ ساري سازشيں کوفي عنان کے امن سمجھوتے کو اس کے صحيح راستے سے ہٹانے کے ليے کي جا رہي ہيں-
ادھر شام کے عوام نے اپنے ملک ميں متعين اقوام متحدہ کے مشاہدين سے کہا ہے کہ وہ شام ميں مسلح باغيوں کے جرائم کے تمام پہلوؤں کے اجاگر کرنے کے ساتھ ہي بعض ٹي وي چينلوں کے اشتعال انگيز اقدامات کے بارے ميں بھي رپورٹ پيش کريں- شام کے عوام نے مغربي شام کے طرطوس علاقے ميں گورنر ہاؤس کے باہر اکٹھا ہو کر عالمي مشاہدين کي ٹيم سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ دہشتگرد گروہوں کے جرائم سے متعلق حقائق کو منظر منظر عام پر لانے کے ساتھ ہي ان ٹي وي چينلوں کے اشتعال انگيز اقدامات کے بارے ميں بھي رپورٹ ديں جو فريبکاري کے ذريعے شام کے عوام کے قتل عام ميں شريک ہيں- واضح رہے کہ عالمي مشاہدين کي ايک ٹيم نے اتوار کے روز طرطوس صوبے کا دورہ کيا جس کے دوران عوام نے گورنر ہاؤس کے سامنے جمع ہو کر ملک کي يکجہتي کے حق ميں نعرے لگائے-
اب تک تيس عالمي مشاہدين اقوام متحدہ اور عرب ليگ کے خصوصي نمائندے کوفي عنان کے امن سمجھوتے کي نگراني کے ليے شام پہنچ چکے ہيں اور مزيد دو سو ستر مشاہدين اگلے ہفتوں ميں شام پہنچ جائيں گے- کوفي عنان نے شام ميں تشدد کے خاتمے اور قيام امن کے ليے جو چھے نکاتي منصوبہ پيش کيا ہے اس ميں فائربندي، شام کے مختلف علاقوں ميں انساني امداد پہنچائے جانے کي اجازت ديا جانا، اور شام کي حکومت اور مخالفوں کے درميان سياسي گفتگو کا آغاز شامل ہے-
اس منصوبے کي رو سے بارہ اپريل سے شام ميں فائربندي کا اعلان کر ديا گيا ہے تاہم باغيوں نے اس سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے اپني دہشتگردانہ کارروائياں جاري رکھي ہيں- شام کے مختلف علاقوں ميں عالمي مشاہدين کي تعيناتي اور مشاہدين کي ٹيم کے نئے سربراہ جنرل راب موڈ کي شام آمد سے پہلے ہي مسلح گروہوں نے شام ميں اپني کارروائياں تيز کر دي ہيں- مسلح باغي مختلف مقامات پر بم نصب کرکے عام لوگوں کو ہدف بنا رہے ہيں جس سے پتہ چلتا ہے کہ دمشق حکومت کے خلاف کارروائيوں ميں انہيں عرب اور مغربي حکومتوں کي بدستور حمايت حاصل ہے اور وہ ملک ميں امن و ثبات کو درہم برہم کرنا چاہتے ہيں-
سياسي تجزيہ نگاروں کا خيال ہے کہ مسلح گروہوں کي جانب سے فائر بندي کي مخالفت کا مقصد شام ميں بدامني پھيلانا اور اس ملک کے بحران کو حل کرنے کي ہر کوشش کو ناکام بنانا ہے- ان حالات ميں شام کے عوام کو توقع ہے کہ عرب ليگ کے مشاہدين بغير وقت ضائع کيے ہوئے شام ميں بدامني اور تشدد پھيلانے اور فائربندي کي خلاف ورزي کےسلسلے ميں مسلح گروہوں کے سلسلے ميں حقيقي اور غير جانبدار رپورٹ پيش کريں گے اور شام کے خلاف سازش کرنے والوں کے ساتھ سختي سے نمٹے جانے کي راہ ہموار کريں گے-
.......
/169